کینیڈا یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلق پر غور کر رہا ہے
کینیڈا اور یورپی یونین توانائی، اے آئی، دفاع اور اہم معدنیات میں تعاون بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔ کسی نئے رکن درجے یا کام و امیگریشن حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی۔
یہ کیوں اہم ہے
کینیڈا امریکہ سے ہٹ کر تعلقات متنوع بنانا چاہتا ہے، مگر یہ ابھی نافذ پالیسی نہیں۔
کینیڈا نے برطانیہ کی قیادت والی جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس میں شمولیت کی باضابطہ درخواست دے دی
وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا کہ کینیڈا نے دس ممالک پر مشتمل برطانوی قیادت والی دفاعی شراکت JEF میں شامل ہونے کی باضابطہ درخواست دی ہے۔ درخواست جمع ہو چکی ہے، لیکن کینیڈا ابھی رکن نہیں بنا۔
منظوری کی صورت میں آرکٹک، شمالی بحر اوقیانوس، بالٹک اور شمالی یورپ میں کینیڈا کا فوجی تعاون مضبوط ہوگا اور شمالی امریکی دفاعی ڈھانچوں سے باہر اس کی شراکتیں وسیع ہوں گی۔
ٹرمپ نے کہا کینیڈا-یورپی یونین ایسوسی ایٹ حیثیت ‘مخالفانہ اقدام’ ہو سکتی ہے، یورپ پر بھاری محصولات کی دھمکی
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کو یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ رکن بنانے کی تجویز امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ہو تو اسے مخالفانہ اقدام سمجھا جا سکتا ہے۔ ابھی کوئی نیا محصول نافذ نہیں ہوا اور کینیڈا کو یہ حیثیت نہیں ملی۔
کینیڈا اور یورپی یونین کی قربت اب واشنگٹن، اوٹاوا اور برسلز کے تجارتی تناؤ میں نیا عنصر ہے اور مستقبل میں بحرِ اوقیانوس کے آرپار سپلائی چینز کو متاثر کر سکتی ہے۔
ٹرمپ نے امریکی وفاقی شہری خریداری میں کینیڈین اشیا پر پابندیاں آگے بڑھانے کا حکم دیا
16 ستمبر کی یادداشت نے ایجنسیوں کو کینیڈین اصل کی اشیا شناخت کر کے قانوناً جائز اقدامات کے ذریعے وفاقی شہری خریداری سے ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ یہ تمام کینیڈین مصنوعات پر فوری مکمل پابندی نہیں۔
وسیع اخراج امریکی حکومت کو سامان بیچنے والے کینیڈین مینوفیکچررز اور سپلائرز کو براہ راست متاثر کر سکتا ہے اور اوٹاوا کی نئی تجارتی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔